علامہ اقبال اور عشق رسول صل اللہ علیہ و آلہ وسلم

| February 16, 2011 | 4 تبصرے

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے

صوفیا کی تعلیم اور ان کا فکر عشق رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کس قدر لبریز ہے کسی بھی اہل علم پر مخفی نہیں۔ عشقِ مصطفےٰ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لبریز اسی فکر کی نمائندگی کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں

ہر کہ عشقِ مصطفےٰ سامانِ اوست
بحر و بردر گوشہ دامانِ اوست


ایک اور مقام پر بارگاہ رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس طرح عرض پرداز ہیں کہ عشق و مستی کے ہزاروں قلزم ایک شعر میں محصور نظر آتے ہیں۔

ذکر و فکر و علم و عرفانم توئی
کشتی و دریا و طوفانم توئی

اسی مضمون کو اردو میں علامہ اس طرح بیان فرماتے ہیں۔

نگاہ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہٰ

نہ صرف یہ کہ علامہ اقبال نے امّتِ محمدی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذاتِ محمدی سے والہانہ پیغام دیا بلکہ اسی عشقِ رسالت اور نسبت محمدی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ملتِ اسلامیہ کی بقا و دوام کا راز بھی قرار دیا اور یہی وہ انقلاب انگیز قوت تھی جس سے سامراجی و طاغوتی طاقتیں خائف تھیں۔
زوالِ اسلام کے اس دور میں جب اقبال ملتِ اسلامیہ کے عروقِ مردہ میں عشقِ مصطفےٰ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام کے ذریعے نئی روح پھونک کر اسے تباہی و ہلاکت سے بچانے کی فکر میں‌تھے۔ اسلام دشمن استعماری طاقتیں منظم ہو کر مسلمانوں کے دلوں میں اسی عشقِ رسالت کی شمع بجھا دینے کا سوچ رہی تھیں۔ انہیں‌معلوم تھا کہ اگر مسلمانوں کے دل رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق و محبت سے خالی ہو گئے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی نہ تو انہیں اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلا سکتی ہے اور نہ ہی اصلاح و تجدید کی ہزاروں تحریکیں انہیں اپنی منزل مراد تک پہنچا سکتی ہیں۔ یہ محض یا ایک خیال خام نہیں بلکہ ایک روشن حقیقت ہے۔ مغربی استعمار کی اسی سازش کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ فرماتے ہوئے کہا تھا۔

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں‌کبھی
روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

چناچہ اس مقصد کے تحت اہل مغرب نے یہ فکری میدان اسلامی تحقیق کے نام پر بعض متعصب یہودی اور عیسائی مستشرقین کے سپرد کر دیا۔ جنہوں نے اسلام کی تعلیمات اور بانی اسلام صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور سیرت پر اس انداز سے تحقیق کر کے لا تعداد کتب تصنیف کیں کہ اگر ایک خالی الذہن سادہ مسلمان نہایت نیک نیتی کے ساتھ بھی ان تصانیف کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کا ذہن رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کے بارے میں‌طرح طرح کے شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے اور ان کتب کے باقاعدہ مطالعہ سے جو ذہن تشکیل پاتا ہے اسے عشق رسالت کے تصور سے دور کا واسطہ باقی نہیں رہتا۔ ان مستشرقین نے جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کا محاذ سنبھال لیا جس سے وہ اپنے مطلوبہ نتائج کافی حد تک حاصل کر رہے ہیں۔ مغرب زدہ سیکولر ذہن جو فکری تشتت اور نظریاتی تشکیک میں مبتلا ہو کر خود کو روشن خیال مسلمان تصور کر رہا تھا۔ مستشرقین کے زہریلے پراپیگنڈے کے باعث عشقِ رسول صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دولت سے عاری ہو گیا اور مذہبی ذہن جو مستشرقین کے پراپیگنڈے کے اثر سے کسی نہ کسی طور بچ گیا تھا جدید لٹریچر کے نتیجے میں اسلام اور بانی اسلام صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وابستہ تو رہا لیکن عشقِ رسول کے عقیدے کو غیر اہم تصور کرنے لگا۔ اس طرح دونوں طبقات اس دولتِ لازوال سے تہی دامن ہو کر ایمانی حلاوت اور روحانی کیفیات سے محروم ہو گئے۔ جدید تصورات کی گرفت اس قدر مضبوط اور کامل نہ تھی کہ مسلمانوں کی اسلامیت ظاہر و باطن کے اعتبار سے محفوظ رہتی۔ یوں قومی و ملی زندگی تباہی و ہلاکت کا شکار ہو گئی۔ اس دور میں احیائے اسلام اور ملّت کی نشاۃ ثانیہ کی جس قدر علمی و فکری تحریکیں منصّہ شہود پر آئی ہیں، ان سب کی تعلیمات سے جو تصور مسلمانوں کی نوجواں نسل کے ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے، یہی ہے کہ اسلام کو بحثیت نظامِ حیات قبول کر لینا اور حضور صل اللی علیہ و آلہ وسلم کی سیرت و تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی کمالِ ایمان اور محبتِ رسول صل اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔ اس اتباع کے علاوہ جناب رسالت مآب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ ستودہ صفات سے خاص قسم کی قلبی اور جزباتی لگاؤ جسے والہانہ عشق و محبت سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی علامت و احوال سے اہلِ دل بخوبی واقف ہیں مقصودِ ایمان ہے۔
اس نام نہاد روشن خیالی سے ہماری حیاتِ ملی پر جو مضر اثرات مرتب ہوئے محتاج بیان نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عشقِ رسول صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصل تصور کو قرآن و حدیث اور سنت صحابہ کے آئینے میں اس طرح اجاگر کیا جائے کہ آج کی نوجواں نسل جو تلاشِ حقیقت میں سرگرداں ہے، اس آفاقی حقیقت سے باخبر ہو کر پھر سے اپنے آقا و مولیٰ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عشق و محبت کا وہ تعلق استوار کر لے کہ اس کی نظروں کو دانش فرنگ کے جلوے کبھی خیرہ نہ کر سکیں۔
بقول اقبال۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

اور انہیں دین حق کی اس کامل تعبیر کی صیحح معرفت نصیب ہو جسے اقبال نے اس شعری قالب میں ڈھال دیا ہے۔

بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگربہ او نر سیدی تمام بو لہبی ست

از قلم: ڈاکٹر محمد طاہر القادری
بشکریہ: روزنامہ جنگ

ٹیگز: , , , , ,

زمرہ جات: اقبالیات, سیرت طیبہ

تبصرے (4)

ٹریک بیک | تبصروں کی فیڈ

  1. ذیشان احمد says:

    جزاک اللہ۔

    صل اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

  2. علی عامر says:

    @ذیشان احمد:
    جزاک اللہ خیر۔

  3. ہاریہ says:

    یہ بہت ہی رلچسپ باتیں ہیں

  4. ارشد شاھین says:

    علامہ اقبال اور عشق رسول صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر انتہائ پر مغز اور بصیرت افروز تحریر ھے

تبصرہ کیجئے