پنجابی زبان، شاعری، تصوف اور سلطان باہو

| June 12, 2012 | 0 تبصرہ

جارج ویبرکے ”لینگویجر ٹوڈے“ میں چھپنے والے آرٹیکل کے مطابق پنجابی زبان دنیا کی گیارہویں بڑی زبان ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق دس کروڑ نوّے لاکھ افراد کی مادری زبان پنجابی دنیا کی دسویں بڑی زبان ہے۔ دنیا میں ایک محتاط اندازے کے مطابق بولی جانیوالی زبانوں کی موجودہ تعدادچھ ہزارنو سو نو ہے لیکن ان میں دو ہزار زبانیں ایسی ہیں جنکے بولنے والوں کی تعداد ایک ہزار افراد سے کم ہے۔ اگلے سو سال میں متروک ہوجانیوالی زبانوں کی تعداد سیکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ زبان کے ماہرین کے مطابق اوسطاً ہر چودہ دن میں ایک زبان اپنا وجود کھو رہی ہے ۔ پنجابی ان زبانوں میں شامل ہے جو یونیسکو کے مطابق مستقبل میں ایسے کسی خطرے سے کوسوں دور ہیں۔ میرے خیال میں جس زبان کے پاس وارث کی ہیر، میاں محمد بخش کی سیف الملوک، شاہ حسین اور بلہے شاہ کی کافیاں اور سلطان باہو کے بیت موجود ہوں وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔
پاکستان سے باہر ایک بار میری ملاقات ایک سکھ قوم پرست لیڈر پرمجیت سنگھ سے ہوئی۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ پنجابی زبان اپنے رسم الخط سے قطع نظر کچھ عرصہ قبل تک ہماری مشترکہ زبان تھی تاہم آپ کو ہماری نسبت کئی سہولتیں اور آسانیاں میسر ہیں۔ نہ صرف یہ کہ پنجابی آپ کی مادری زبان ہے بلکہ یہ آپ کی مذہبی زبان بھی ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ کے پاس شاعری کے اس معیار کی ایک چیز بھی نہیں جو ہمارے یعنی مسلمان شاعروں نے کی ہے۔ گرنتھ صاحب میں بھی بابا فرید گنج شکر کے اشلوک ہیں لیکن آپ کے پاس اس آفاقی شاعری کا پاسنگ بھی موجود نہیں جس سے ہمارا پنجابی ادب مالا مال ہے۔ پرمجیت سنگھ چند لمحے سوچتا رہا پھر کہنے لگا آپ کا کہنا تو سوفیصد درست ہے۔ میں نے بھی اس بات پر پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا ۔ آخر اسکی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس عربی اور فارسی شعری روایت موجود نہیں۔ آپ کے پاس ابن العربی اور منصور حلاج نہیں ہیں اور آپ کے پاس کشف المحجوب جیسا تصوف کا سرمایہ موجود نہیں ہے۔ نام نہاد صوفی شعراء باکمال اور لاجواب شاعر تو ہوسکتے ہیں مگر تصوف کے نمائندے نہیں. جناب علی کا فرمان ہے کہ علم بغیر عمل بیکار ہے اور عمل بغیر خلوص آزار ہے۔ سلطان باہو تصوف کے نام پر شاعری کرنیوالے بے شریعت شعراء کے ہجوم میں ایک با شریعت صوفی شاعر کے طور پر اپنا علیحدہ تشخص اور مقام رکھتے ہیں۔ جن کے تصوف کا سفر

”الف الله چنبے دی بوٹی من وچ مرشد لائی ہو
نفی اثبات دا پانی ملیس ہر رگے ہرجائی ہو
اندر بوٹی مشک مچایا جاں پھلاں پر آئی ہو
چرجگ جیوے مرشد باہو جیں بوٹی من لائی ہو

سے شروع ہوتا ہے اور

”ب بسم الله اسم الله داایہہ بھی گہنا بھارا ہو
نال شفاعت سرور عالم چھٹسی عالم سارا ہو
حدوں بے حد درود نبی نوں جیں داایڈا پسارا ہو
قربان تنہاں تو باہو جنہاں ملیا نبی سہارا ہو“

پر ختم ہوجاتا ہے وادی سون سکیسرکے گاؤں انگہ میں پیدا ہونے والے سطان باہو ہاشمی قبیلے کی اعوان قوم سے تعلق رکھتے تھے اور باشریعت صوفی تھے۔ آپ کا سارا کلام الله کی وحدانیت، رسول کی محبت اور مرشد کی اطاعت کے دائرے میں گھومتا ہے۔ وہ بشری خامیوں اور کمزوریوں کو بشری خامیاں اور کمزوریاں ہی سمجھتے ہیں اور دوسرے بے شرع شعراء کی مانند ان کو تصوف کے لبادے میں لپیٹ کر کوئی سہولت نکالنے کے بجائے صوفیائے حق کا نمائندہ ہونے کا فریضہ سرانجام دیتے نظر آتے ہیں۔ وہ تصوف کے غلط العام عقیدے کے مطابق مست الست ہونے، شریعت سے ماورا ہونے اور شرعی پابندیوں سے بالاتر ہونے کی تصور کی عملی طور پر بھی نفی کی اور شاعری میں بھی اس کا پوری شدت سے اظہار کیا۔

”باہجھ حضوری نئیں منظور توڑے پڑھن صلاتاں ہو
روزے نفل نماز گزارن جاگن ساریاں راتاں ہو
باہجوں قلب حضور نہ ہووے کڈھن سے زکاتاں ہو
باہجھ فنا رب حاصل باہو نہ تاثیر جماتاں ہو

یہ بات طے ہے کہ جب تک پنجابی کے پاس بابافرید گنج شکر، وارث شاہ، شاہ حسین، بلہے شاہ اور میاں محمد بخش موجود ہیں اس زبان کو اور جب تک سلطان باہو جیسے شاعر ہیں تصوف کو کہیں سے کوئی خطرہ نہیں تاہم یہ بات زبان کے بولنے اور سننے کی حد تک ہے۔ لکھنے کے معاملے میں سکھوں نے ”شاہ مکھی“ (اردو رسم الخط) چھوڑ کر دیوناگری رسم الخط میں ”گرومکھی“ کو اپنی تحریری زبان بنایا۔ حالانکہ گورو کی زبان سے نکلنے والی ”بولی“ رسم الخط نہیں رکھتی لیکن سکھوں نے گورو کے ”مکھ“ سے نکلنے والی زبان کو دیوناگری رسم الخط عطا کرکے گورمکھی بنادیا۔ دیوناگری خط سے ناآشنا پنجابی بولنے والے مسلمان گورمکھی سے کٹ گئے اور دیوناگری رسم الخط والی گورمکھی لکھنے والے سکھ شاہ مکھی سے کٹ گئے۔ شاہ مکھی رسم الخط تمام تر اردو حروف تہجی پر مشتمل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اردو کے حروف تہجی پنجابی زبان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔ کم از کم پانچ صوتی حروف ایسے ہیں جو پنجابی کو شاہ مکھی میں لکھنے کے لئے درکار ہیں لیکن شاہ مکھی صدیوں سے ان پانچ حروف سے محروم ہے۔ پنجابی زبان وادب کی ترویج کے لئے قائم ادارے عموماً اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر خصوصاً اس چیلنج کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پنجابی زبان کو پنجابیوں کی تمام تر بے اعتنائی اور احساس کمتری نے صدیوں سے بہرحال اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنی مضبوطی اور عوامی مقبولیت اسے پنجابی شاعری نے عطا کی ہے جس زبان میں بابافرید کے اشلوک، وارث شاہ کی ہیر، شاہ حسین اور بلہے شاہ کی کافیاں اور سلطان باہو کے ابیات ہوں اُسے مضبوطی اور دوام کے لئے کسی اور چیز کی شاید ضرورت بھی نہیں ہے۔
(یہ مضمون برمنگھم میں منعقدہ سلطان باہو کانفرنس میں پڑھاگیا)
مضمون نگار: خالد مسعود خان
(بشکریہ۔روزنامہ جنگ)

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , ,

زمرہ جات: منتخب مضامین

تبصرہ کیجئے